Tags » Osama Bin Laden

Gilani calls for probe into Osama’s presence in Pak after ‘leaked’ letter on visa policy

MULTAN: Former prime  minister Yousuf Raza Gilani on Friday said investigations should be conducted into  presence of al-Qaeda chief Osama bin Laden in Pakistan instead of visas issued by Pakistan’s US embassy to Americans, a day after media reports claimed he had empowered Pakistani envoy to directly issue visas to Americans without approval of concerned officials in 2010. 238 woorden meer

WEB News

Lawsuits blaming Saudi Arabia for 9/11 get new life

NEW YORK (AP) — Family members of 9/11 families and others harmed in the terrorist attacks are on a fresh quest to hold Saudi Arabia responsible. 124 woorden meer

News

21/03/2017

Former IRA Commander Martin McGuiness Dies Of Rare Heart Condition. A Present From God To His Victims.

  

Just to explain to the younger generation who did not grow up under the threat of being bombed by the IRA in England and Northern Ireland – the IRA are the equivalent of IS, cowards and murderers of innocent men, women and children. 491 woorden meer

News

What Exactly Was Bin Laden’s Role in 911?

By Tim King | American Herald tribune | March 20, 2017

Osama bin Laden, it’s a name every American knows and loves to hate. After the horrific terrorist attacks on 11 September 2011, former US President George W Bush told his countrymen that this terrorist bin Laden orchestrated the 911 attacks in New York City, Washington DC and Shanksville, Pa.

1.337 woorden meer
Ethnic Cleansing, Racism, Zionism

حسین حقانی نیٹ ورک

حسین حقانی سفارت کاری کی ’میرا‘ بنتے جا رہے ہیں۔ حقانی صاحب کو اچھی طرح علم ہے کہ کب، کیسے اور کس طرح سے میڈیا کی توجہ حاصل کرنی ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھا گیا اُن کا حالیہ کالم ہی اُٹھا کر دیکھ لیں، کہ وہ کالم بادی النظر میں تو ٹرمپ کے مسئلے پر لکھا گیا تھا لیکن آدھے سے زیادہ کالم میں اپنی کہانی اور اپنی اہمیت جتاتے رہے اور پاکستانی میڈیا میں اُن کے بطور سفیر کردار پر بحث اور انگلیاں اُٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ یہ کالم اگر کسی عام لکھاری نے لکھا ہوتا تو یقینًا نتائج مختلف ہوتے، عین ممکن ہے کہ وہ شائع ہی نہ ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو اُس میں بیان کردہ باتوں کے مطابق سخت ایکشن لیا جاتا، کیونکہ حسین حقانی نے اپنے کالم میں خود کو غدار ثابت کیا ہے اور وہ آئین کے مطابق غداری کی ہر تعریف پر پورا اُترتے ہیں۔

حسین حقانی کا ماضی انتہائی شاندار ہے جو کہ ثابت کرتا ہے کہ اگر آپ ’کیٹ فش‘ ہیں تو آپ کو جھیل سوکھنے سے پہلے ہی اپنا بندوبست کرلینا چاہیئے۔ بطورِ سفیر، حقانی کی سری لنکا میں تعیناتی کے ابواب تو پھر سہی لیکن جب زرداری حکومت نے اپنے دوستوں کو نوازنے کا سلسلہ شروع کیا تو حسین حقانی اُن لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بہتی گنگا میں صرف ہاتھ ہی نہیں دھوئے بلکہ جی بھر کر نہائے۔ اُنہوں نے اپنی وفاداری کے عوض امریکہ میں بطور سفیر تعیناتی کروائی، اُس کی وجہ وہ اپنے کالم میں اپنا امریکی حلقوں میں اثر و رسوخ بتاتے ہیں جبکہ پڑھنے والے سمجھتے ہیں کہ ایسا اثر حاصل کرنے کیلئے انسان کو اخلاقی سطح سے کتنا نیچے گرنا پڑتا ہے۔

ابتداء میں حسین حقانی ملک کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم سے منسلک رہے تھے اور اُس دور میں وہ باقاعدگی کے ساتھ کراچی میں قائم امریکی قونصل خانے کی لائبریری جاتے تھے۔ اُس کے بعد صحافت کا آغاز کیا اور وائس آف امریکہ ریڈیو کیلئے افغانستان کی جنگ کو کور کیا۔ ضیاء الحق کی مدد سے انہوں نے اپنا سیاسی سفر شروع کیا اور بعد میں نواز شریف کے قریب ہو گئے۔ اُس کے بعد اُنہوں نے بینظیر بھٹو کا کیمپ جوائن کیا اور فوائد سمیٹے۔ زرداری سے دوستی انہوں نے 2008ء میں کیش کروائی جب وہ امریکہ میں سفیر تعینات رہے۔ وقت کو سمجھنے والے حقانی نے مشرف دور کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا۔

زرداری دور میں جب امریکہ نے پاکستان کے علم میں لائے بغیر اُسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کیا تو سب ہی کہہ رہے تھے کہ یہ ’ان سائیڈ جاب‘ ہے۔ تاہم چند ہی دنوں کے بعد میموگیٹ کا اسکینڈل شروع ہو گیا اور میڈیا سے بن لادن اسٹوری پسِ منظر میں چلی گئی۔ اُس دوران حسین حقانی نے استعفیٰ دیا اور چند روز کے بعد پاسپورٹ تھام کر امریکہ سدھار گئے۔ آج کل وہ امریکہ میں بطور سمدھی اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً ہمیں یہ یاد دلاتے رہتے ہیں کہ اُنہوں نے حکومت اور قوم کو کیسے بیوقوف بنایا۔ حقانی کا انجام کیا ہو گا، یہ ہمارا آج کا موضوع نہیں ہے۔ تاہم حقانی نے امریکی جریدے کے کالم میں جو اعتراف کئے ہیں وہ کس نوعیت کے ہیں، یہ ہمارا موضوع ہے۔

حسین حقانی نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے بن لادن آپریشن میں امریکہ کی مدد کی تھی اور یہ مدد ’آؤٹ آف دی وے‘ تھی۔ یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا وہ یہ مدد کرنے کے مجاز تھے کیونکہ وہ اُس وقت امریکہ میں بطور سفیر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے اور یہ سفیر کے کرنے کے کام نہیں ہیں اور نہ ہی اُن کے ایس او پیز میں یہ بات شامل ہوتی ہے۔ کیا پیپلز پارٹی اُن کے اقدامات سے آگاہ تھی؟ اِس کا جواب حقانی نے اپنے کالم میں خود ہی دیا ہے کہ اُس وقت کے صدر اور وزیر اعظم اُن کے اقدامات سے نہ صرف آگاہ تھے بلکہ معاون بھی تھے اور منظوری بھی دے رہے تھے۔

اب پیپلز پارٹی کی قیادت سے بھی سوال ہونا چاہیئے کہ آپ کے کیمپ میں ایک غدار کیا کررہا تھا؟ جس کی وفاداریاں پاکستان سے زیادہ امریکیوں کیلئے تھیں اور جس نے پاکستان سے پہلے امریکہ کا سوچا۔ کیا آرمی کو اُن اقدامات کا علم تھا؟ حسین حقانی نے تسلیم کیا ہے کہ اُنہوں نے سی آئی اے کے جاسوس پاکستان لانے میں اہم کردار ادا کیا اور اُن کو ویزے جاری کئے۔ لگے ہاتھوں وہ یہ بھی بتا دیتے کہ کتنے جاسوس اِس ملک میں آئے؟ وہ کون سے آلات یہاں لائے؟ اِس سے پاکستان کی سیکیورٹی کس حد تک کمزور ہوئی اور یہ جاسوس اب کہاں ہیں؟

یہ بھی بتا دیتے کہ اُن جاسوسوں کا کام صرف بن لادن کی تلاش نہیں تھا بلکہ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی جاسوسی کرنے بھی آئے تھے اور وہ اِس میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں، تو اِس کا جواب ہے کہ امریکہ کے وہ جاسوس ابھی تک ناکام ہیں کیونکہ الحمد اللہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جاری ہے۔ اب سوال اُٹھتا ہے کہ اگر پاکستان کا سفیر امریکہ میں یہ گل کھلاتا رہا ہے تو اُس کے نیچے کا عملہ کیا کرتا رہا ہو گا؟ اگر اعلیٰ ترین عہدے پر فائز شخص ایسا گھٹیا اور غدار ہے تو وہاں موجود دیگر عملے کی صورتحال کیا ہے؟

کیا اب یہ ضرورت نہیں کہ بیوروکریسی پر شکنجہ کسا جائے جو کہ تمام ہی مسائل کی جڑ معلوم ہوتی ہے، فوج پر تو منہ اُٹھا کر کوئی بھی تنقید کر لیتا ہے، بیورو کریسی کا احتساب کب ہو گا اور اب جب کہ اُن کے قبیلے کے ایک اہم سردار نے اپنی غداری بھی تسلیم کر لی ہے۔ میری ذاتی نظر میں حسین حقانی نے جو بھی کیا ہے، اُس نے یہ کام اکیلے نہیں کئے ہیں بلکہ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی پاکستان میں اپنے نیٹ ورک کے ذریعے اُس نے یہ تمام کام کئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں اُس نیٹ ورک کے خلاف کوئی آپریشن ہو گا؟ کیونکہ اِس ’حقانی نیٹ ورک‘ کے خلاف آپریشن کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

کیا حسین حقانی کے اعتراف غداری کے زمرے میں نہیں آتے ہیں؟ اگر ایک آرٹیکل کو بنیاد بنا کر پورا چینل بند کیا جا سکتا ہے، ایک آرٹیکل یا رپورٹ کو بنیاد بنا کر حملے کئے جا سکتے ہیں، ایک آرٹیکل کو بنیاد بنا کر آپریشنز کئے جا سکتے ہیں تو ایک اعترافی آرٹیکل کو بنیاد بنا کر سابق سفارتکار پر غداری کا مقدمہ کیوں نہیں چل سکتا؟ اگر قانون طاقتور ہے اور ملک میں قانون کی حکمرانی ہے تو پھر ایسا ہونا چاہیئے وگرنہ دوسری صورت میں اگر حسین حقانی کو نشان عبرت نہیں بنایا جاتا ہے تو یہ باقی ماندہ بیوروکریسی کیلئے کیسی مثال ہوگی، یہ سوچنے کی بات ہے۔

سالار سلیمان

Pakistan

سابق سفیرنے پیپلزپارٹی کی اعلئ قیادت پرانتہائ گهناونا الزام لگا دیا،پی پی پی چراغ پا،

سابق پاکستانی سفیر نے مختلف انکشافات کیے ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پی پی پی حکومت کی مرضی سے سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں اسامہ کی کھوج کے لیے آئے تھے۔
تجزیہ نگاروں کے خیال میں ان انکشافات نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو چراغ پا کر دیا ہے، جس کو یہ پہلے ہی شک تھا کہ حسین حقان ریاستی مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے۔ ان انکشافات پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے معروف دفاعی تجزیہ نگار ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’فوج کے علم میں پہلے ہی سے کئی باتیں تھیں۔ میمو گیٹ اسکینڈل سے سب واقف ہیں۔ ان انکشافات کے بعد فوج کے ان دعووں کو مذید تقویت ملی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حسین حقانی ملکی مفاد کے خلاف کام کر رہا ہے۔ اس سے حسین حقانی کا جھوٹ بھی پکڑا گیا۔ او بی ایل کمیشن کے سامنے اس نے حلف اٹھا کر کہا کہ حکومت نے اس کو کبھی نہیں کہا کہ وہ لوگوں کو ویزے جاری کرے اور اب وہ انکشافات کو افشاء کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ وہ پاکستان کے مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے اور امریکا میں یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ وہ ایک مختلف نقطہء نظر رکھتا ہے۔ اسی لیے اسے پاکستان میں ناپسند کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سابق سفیر وہی زبان استعمال کرتا ہے جو کچھ امریکی ارکان کانگریس کرتے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ ان کی زبان بولتا ہے اور انہیں خوش کرنے کے لیے ملکی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے۔‘

March 10 in history

241 BC Battle of the Aegates Islands – The Romans sank the Carthaginian fleet bringing the First Punic War to an end.

1606 Susenyos defeated the combined armies of… 582 woorden meer

History